دیوانہ بنا دے گی ترے پیار کی خوشبو
انکار سے آتی ہوئی اقرار کی خوشبو
جی کہتا ہے کانٹوں کو بھی ہونٹوں سے لگا لوں
ہر پھول سے آتی ہے لبِ یار کی خوشبو
میں نے تو فقط ریت پہ اک نام لکھا تھا
صحرا کی ہواؤں میں ہے گلزار کی خوشبو
اس شہر میں خوشبو کے خریدار بہت ہیں
اللہ بچائے تِرے کردار کی خوشبو
رسوائی کے تحفے سے نوازے گئے اکثر
ہر شخص کی قسمت میں کہاں پیار کی خوشبو
معصوم لگے ہوں گے جنہیں زخم محبت
محسوس کریں گے مِرے اشعار کی خوشبو
معصوم انصاری
No comments:
Post a Comment