Thursday, 10 March 2022

زلفوں کو رخ پہ ڈال بڑی تیز دھوپ ہے

 زلفوں کو رخ پہ ڈال بڑی تیز دھوپ ہے

اے یار! خوش جمال بڑی تیز دھوپ ہے

چہرہ ہے سرخ سرخ پسینے سے جسم تر

خود کہہ رہا ہے حال بڑی تیز دھوپ ہے

شدت کی پیاس سے یوں جمی لب پہ پپٹریاں

جیسے شجر پہ چھال بڑی تیز دھوپ ہے

پہلے بھی تیز دھوپ تھی ایسی مگر نہ تھی

یعنی کہ اب کے سال بڑی تیز دھوپ ہے

پہرہ فرات پر ہے یزیدی سپاہ کا

پیاسی علیؑ کی آل بڑی تیز دھوپ ہے

صحرا میں تو سراب نظر آتے ہیں نوید

اوسان رکھ بحال بڑی تیز دھوپ ہے


داور نوید

No comments:

Post a Comment