جو تمہاری طرف سے آئی تھی
وہ اُداسی بہت قلیل رہی
تیرے غم سے گُزر تو آیا پر
روح اِک عرصے تک علیل رہی
وہ پیا کی جو یاد تھی پیاری
مجھ پہ بن قادر و جلیل رہی
تیرے آنسو بھی تُو نے مانگے تھے
میری تو آنکھ خود کفیل رہی
رات گُزری مگر پتا نہ چلا
وہ ملاقات یُوں طویل رہی
جو پیا سے جُدا ہوئی وہ تو
سارے جگ میں فقط ذلیل رہی
تیرے جانے سے ہو گیا میں غنی
میرے گھر غم کی اِک سبیل رہی
شوزب حکیم
Great
ReplyDeleteالسلام علیکم جاوید صاحب، آپ کو رنگ اردو بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں، کلام کی پسندیدگی کا شکریہ۔
Delete