Wednesday, 8 March 2023

زمیں پہ مکتب آدم کا اک نصاب ہے عشق

 زمیں پہ مکتبِ آدم کا اک نصاب ہے عشق

لکھی گئی جو ازل میں وہی کتاب ہے عشق

حدودِ ذات کے اندر بھی شور و شر اس کا

حدودِ ذات کے باہر بھی اضطراب ہے عشق

جنوں کی تہ سے جو اُبھرے تو گوہرِ نایاب

ہوس کی موج پہ آئے تو اک حباب ہے عشق

کسی سوال کی صورت ہے کائنات تمام

اور اس سوال کا آسان سا جواب ہے عشق

سمیٹ لیں جو نگاہیں تو حسنِ لیلیٰ تک

بکھیر دیں جو فضا میں تو بے حساب ہے عشق

ورق ورق پہ ہے بکھرا مِرے وجود کا رنگ

یہ کس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب ہے عشق

فضائے لیلیٰ شب میں ہے روشنی اس کی

ضیائے نخوتِ شِیریں کا آفتاب ہے عشق


ضیا فاروقی

No comments:

Post a Comment