آئی ہو تم یہاں کیوں ہاتھوں میں لے کے پتھّر
بستی ہے مفلسوں کی، شیشے کے یہ نہیں گھر
پابندیاں یہاں ہیں رسموں روایتوں کی
چلتی ہوں اس لیے میں تیری ڈگر سے ہٹ کر
صحرا کی دھوپ سر پر، تلوؤں میں بھی ہیں چھالے
شدت ہے تشنگی کی، چھلتے سراب اس پر
زندہ ضمیر جن کا، ڈرتے نہیں وہ سچ سے
چلتے ہیں کھوٹے من کے، تو آئینوں سے بچ کر
رہبر بِنا کسی کو منزل کہاں ملی ہے؟
ہم کب سے چل رہے ہیں راہیں بدل بدل کر
محفل میں سب سے دیوی ہنس کر ملی ہے لیکن
تنہائیوں میں روئی خود سے لِپٹ لِپٹ کر
دیوی ناگرانی
دیوی نانگرانی
No comments:
Post a Comment