ہمیں ہر حال میں اُفتاد سے باہر نکلنا ہے
تمہیں گر حلقۂ صیاد سے باہر نکلنا ہے
فُغان و نالہ و فریاد سے باہر نکلنا ہے
اگر کُوئے ستم ایجاد سے باہر نکلنا ہے
تو ظلِ مسندِ ارشاد سے باہر نکلنا ہے
بنانا ہے گھروندہ شہر کے اندر تو پھر پہلے
گروہِ خانماں برباد سے باہر نکلنا ہے
ہمیں گر منزلِ ہستی کو پانا ہے تو پھر ہم کو
غمِ ہستی! تیری رُوداد سے باہر نکلنا ہے
فقیہہ شہر کر دے ترک تُو بھی جامۂ خواہش
امیرِ شہر کو الحاد سے باہر نکلنا ہے
ہمیں معلوم ہے اندر اُتر جائے گا غم کتنا
مگر پھر بھی تمہاری یاد سے باہر نکلنا ہے
شہزاد عادل
No comments:
Post a Comment