عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
گر عشق ہے نبیﷺ سے بنا لے وہی جمال
ریشِ نبیﷺ کٹا کے بنے کیسے وہ خصال
ہر ایک رنگ و روپ میں تو مصطفیٰؐ کو ڈھال
یہ ہی ہے تیراﷺ عشق تو یہ ہی تِرا کمال
مومن کی سوچ میں تو نمایاں ہے ذوالجلال
ہے اس کے ماسوا تو وہ اندیشۂ ذلال
جاں دی اسی کی جائے تو ہو گا نہ کچھ ملال
ورنہ مجازی عشق رہِ کوچۂ زوال
محشر میں جب کرےگا خدا تجھ سے کچھ سوال
ہو گا وہی جو تیرے عمل کا ہوا مآل
رمزی بھی صوفی تو نہیں بُنتا ہے لفظی جال
چڑیوں کو سمجھے اچھا جو پھرتی ہیں ڈال ڈال
معین لہوری رمزی
No comments:
Post a Comment