صنفِ نازک جسے کہتے ہیں یہ اربابِ نظر
ہے اسی ذات پہ قوموں کی ترقی کا مدار
لازمی ہے کہ بنے قابلِ خدمت یہ بھی
کام کیوں کر وہ کرے جس کا ہو بازو بے کار
اپنی تاریخ پہ جس وقت نظر پڑ تی ہے
ہم پہ ہوتے ہے عیاں اپنے نمایاں کردار
کس قدر زودِ فراموش ہے بے حس دنیا
‘آج کہتی ہے ہمیں ’ ناقص و عضو بے کار
تھا قدم عالمِ اسلام میں پہلا کس کا
کس کی جرأ ت پر تھے انگشتہ دنداں کنار
چاند بن کر کیا دنیا کو منور کس نے
کس نے اکبر کے مقابل میں اٹھائی تلوار
کس کے افسانے سے توقیر ہے جھانسی کی سوا
سطوتِ نور جہاں سے ہے کسی کو انکار
یاد رکھو کہ ہے یہ عالمِ ہستی ہم سے
ہم جو مٹ جائیں تو مٹ جائیں گے یہ لیل و نہار
بشیرالنساء بشیر
No comments:
Post a Comment