Friday, 9 August 2024

بے حسی کب ہے میرے حصے میں

 بے حسی کب ہے میرے حصے میں

گریۂ شب ہے میرے حصے میں

تیرگی کیا مِرا بگاڑے گی

روشنی جب ہے میرے حصے میں

منفرد سوچ کا میں عادی ہوں

اِک عجب ڈھب ہے میرے حصے میں

قبل از وقت کس طرح ملتی

جو خوشی اب ہے میرے حصے میں

عاجزی بھی تو ایک نعمت ہے

نعمتِ رب ہے میرے حصے میں

ایک وہ ہی نہیں مِرا یوسف

ورنہ تو سب ہے میرے حصے میں


یوسف عابدی

No comments:

Post a Comment