مقدر آزما کر دیکھتے ہیں
کسی سے دل لگا کر دیکھتے ہیں
مٹا کر نفرتیں سارے جہاں سے
محبت کو بسا کر دیکھتے ہیں
منائی تو بہت ہیں یارو خوشیاں
کہ اب کے غم منا کر دیکھتے ہیں
بدن پر اوڑھ کر چادر غموں کی
زرا سا مسکرا کر دیکھتے ہیں
اُٹھاتے ہیں جو کرداروں پہ انگلی
انہیں شیشہ تھما کر دیکھتے ہیں
اسی اُمید سے وہ لوٹ آئیں
کہ گھر اپنا سجا کر دیکھتے ہیں
کسی کو پانے کی خاطر اے عاصم
چلو خود کو مٹا کر دیکھتے ہیں
عاصم خیالوی
No comments:
Post a Comment