Friday, 9 August 2024

مقدر آزما کر دیکھتے ہیں

 مقدر آزما کر دیکھتے ہیں

کسی سے دل لگا کر دیکھتے ہیں

مٹا کر نفرتیں سارے جہاں سے

محبت کو بسا کر دیکھتے ہیں

منائی تو بہت ہیں یارو خوشیاں

کہ اب کے غم منا کر دیکھتے ہیں

بدن پر اوڑھ کر چادر غموں کی

زرا سا مسکرا کر دیکھتے ہیں

اُٹھاتے ہیں جو کرداروں پہ انگلی

انہیں شیشہ تھما کر دیکھتے ہیں

اسی اُمید سے وہ لوٹ آئیں

کہ گھر اپنا سجا کر دیکھتے ہیں

کسی کو پانے کی خاطر اے عاصم

چلو خود کو مٹا کر دیکھتے ہیں


عاصم خیالوی

No comments:

Post a Comment