Friday, 9 August 2024

بڑھی جو وحشت ہستی تو لا نے رقص کیا

 بڑھی جو وحشت ہستی تو لا نے رقص کیا

خودی نے حشر اٹھایا، خدا نے رقص کیا

تجھے خبر ہی نہیں ہے تِری خوشی کے لیے

طرح طرح سے تِرے مبتلا نے رقص کیا

میں ایک بار وہاں پاؤں دھرنا چاہتا ہوں

وہ سرزمیں جہاں اولیاء نے رقص کیا

سب اپنے اپنے گھروں میں دُبک کے بیٹھ گئے

چہار سمت وبا تھی، وبا نے رقص کیا

تمہارا نام مِرے لب پہ آ گیا خود ہی

دُعا کو ہاتھ اُٹھے اور دُعا نے رقص کیا

چمن میں پھُول کھلے رنگ رنگ کے فرذوق

خُوشی میں باؤلا ہو کر صبا نے رقص کیا


حسن فرذوق

No comments:

Post a Comment