Friday, 6 November 2015

خشک پتوں کی صدائے درد پیہم بھی نہیں

خشک پتوں کی صدائے درد پیہم بھی نہیں
میرے آنگن میں ابھی تو دکھ کا موسم بھی نہیں
جنگلوں کی سائیں سائیں کی صدا کا شور ہے
اپنے کمرے میں ادھر کچھ روز سے ہم بھی نہیں
میرے سائے میں وہ پل دو پل ٹھہرتا ہے تو کیا
ٹوٹ جانے کا مِرے، اس شخص کو غم بھی نہیں
سو گیا ہوں بند گھر میں کالی راتیں اوڑھ کر
صحن میں صبحِ ازل کی روشنی کم بھی نہیں
مدتوں ڈوبا ہوا تھا سیلِ غم کی گود میں
اس مکاں کے بام و در لیکن ذرا نم بھی نہیں
خشک دھرتی سے نچوڑا جائے گا پانی کلیمؔ
دُور تک دریا نہیں، پتوں پہ شبنم بھی نہیں

شاہد کلیم

No comments:

Post a Comment