خشک پتوں کی صدائے درد پیہم بھی نہیں
میرے آنگن میں ابھی تو دکھ کا موسم بھی نہیں
جنگلوں کی سائیں سائیں کی صدا کا شور ہے
اپنے کمرے میں ادھر کچھ روز سے ہم بھی نہیں
میرے سائے میں وہ پل دو پل ٹھہرتا ہے تو کیا
سو گیا ہوں بند گھر میں کالی راتیں اوڑھ کر
صحن میں صبحِ ازل کی روشنی کم بھی نہیں
مدتوں ڈوبا ہوا تھا سیلِ غم کی گود میں
اس مکاں کے بام و در لیکن ذرا نم بھی نہیں
خشک دھرتی سے نچوڑا جائے گا پانی کلیمؔ
دُور تک دریا نہیں، پتوں پہ شبنم بھی نہیں
شاہد کلیم
No comments:
Post a Comment