Saturday, 25 July 2020

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں
جو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں
راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سراب
ہر مسافر پر طلسمِ رہ گزر کھلتا نہیں
دیکھنے والے تغافل کار فرما ہے ابھی
وہ دریچہ کھل گیا، حسنِ نظر کھلتا نہیں
جانے کیوں تیری طرف سے دل کو دھڑکا ہی رہا
اس تکلف سے تو کوئی نامہ بر کھلتا نہیں
انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمر
اتنی آسانی سے تو بابِ ہنر کھلتا نہیں
ہم بھی اس کے ساتھ گردش میں ہیں برسوں سے سلیم
جو ستارہ ساتھ رہتا ہے، مگر کھلتا نہیں

سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment