کوئی اس طرح بڑا ہو کہ بڑا بھی نہ لگے
روشنی دیتا رہے اور دِیا بھی نہ لگے
ہم ہیں وہ پھول جو پتوں سے ڈھکے ہوتے ییں
اتنے پُر حبس کہ موسم کی ہوا بھی نہ لگے
ایسے مجبور کرو اس کو محبت کے لیے
قصر تعمیر بھی ہو جائے جگہ بھی نہ لگے
قرعۂ فال کی امید پہ بیٹھے ہم لوگ
ہم وہ بدبخت جنہیں ماں کی دعا بھی نہ لگے
لفظ و لہجے کا تناسب ہو کچھ ایسے پارس
مدعا پیش بھی ہو جائے برا بھی نہ لگے
پارس مزاری
No comments:
Post a Comment