Saturday, 14 November 2020

دل کے بہلانے کا سامان نہ سمجھا جائے

 دل کے بہلانے کا سامان نہ سمجھا جائے

مجھ کو اب اتنا بھی آسان نہ سمجھا جائے

میں بھی دنیا کی طرح جینے کا حق مانگتی ہوں

اس کو غداری کا اعلان نہ سمجھا جائے

اب تو بیٹے بھی چلے جاتے ہیں ہو کر رخصت

صرف بیٹی کو ہی مہمان نہ سمجھا جائے

میری پہچان کو کافی ہے اگر میری شناخت

مجھ کو پھر کیوں مری پہچان نہ سمجھاجائے

میں نے یہ کب کہا روحی کہ مرے جیون میں

میرے سائیں کو مری جان نہ سمجھا جائے


ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment