اہلِ گمان کرتے نہیں ہیں یقیں بہت
اور کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں نکتہ چیں بہت
میں نے سمُندروں کو بتایا تھا ایک روز
رہنے کے واسطے ہے مجھے یہ زمیں بہت
ہم چھوڑ آئے اس کو، مگر بھولتا نہیں
کرتے ہیں یاد ایک مکاں کو مکیں بہت
فرصت نہیں ہے اس کو کسی غیر کیلئے
اس سنگِ آستاں کو ہماری جبیں بہت
مالک! یہ کس حساب سے بانٹا ہے تُو نے رزق
کچھ بھی نہیں دیا ہے کہیں، اور کہیں بہت
اب تُو بھی آ گیا ہے مِری جان کو تو آ
پالے ہوئے ہیں تجھ سے تہِ آستیں بہت
سمجھا انہیں تو اور ہی نکلے وہ فطرتاً
عظمیٰ جو دیکھنے میں لگے دلنشیں بہت
عظمیٰ محمود
No comments:
Post a Comment