Friday, 13 November 2020

رکھا ہوا ہے سامنے عرصہ سمیٹ کر

 رکھا ہوا ہے سامنے عرصہ سمیٹ کر

سانسوں نے میرے جسم کا ملبہ سمیٹ کر

جاؤں کدھر کو میں کوئی منزل نہیں رہی

جس دن سے لے گیا ہے وہ رستہ سمیٹ کر

لفظوں کا رزق پاس ہے میری زبان کے

لیکن وہ لے گیا میرا لہجہ سمیٹ کر

اس شخص کے حصار سے نکلا نہیں ہوں میں

آدھا رکھے ادھیڑ کے، آدھا سمیٹ کر

وہ ہے مرے خیال کی وسعت سے بدگمان

لایا ہوں اس کے سامنے سدرہ سمیٹ کر

کھینچی ہیں وقت نے جو طنابیں حیات کیں

میں چل پڑا ہوں زیست کا خیمہ سمیٹ کر

گھر میں مرا وجود مصور تھا جا بجا

دستک ہوئی تو آ گیا چہرہ سمیٹ کر


مصور عباس

No comments:

Post a Comment