Friday, 13 November 2020

عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی

عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی

روانہ بھی نہیں تھا اور ہجرت ہو رہی تھی

بنایا جا رہا تھا کینوس پر زرد سورج

ابھارا جا رہا تھا نقش حیرت ہو رہی تھی

کہیں آتا نہیں تھا میں کہیں جاتا نہیں تھا 

یقیں آتا نہیں تھا ایسی حالت ہو رہی تھی

مرا اس کے بنا تو جی کہیں لگتا نہیں تھا

اداسی لوٹ آئی تھی، مسرت ہو رہی تھی

چراغ ایک اک کر کے روشنی کرنے لگے تھے

مجھے ان سب چراغوں سے محبت ہو رہی تھی

نیا اک باغ تھا، اور اس کو کاٹا جا رہا تھا

پرندوں کو ابھی پیڑوں کی عادت ہو رہی تھی

بچھڑ جانے کا کچھ کچھ خوف بھی ہونے لگا تھا

مجھے اس کے رویے پر بھی حیرت ہو رہی تھی

نہیں تھی زندگانی بھی وہاں حسبِ تمنا

محبت بھی وہاں حسبِ ضرورت ہو رہی تھی

مکمل بد گمانی ہو گئی تھی اس کو سید

پلٹنے میں مجھے بھی اب سہولت ہو گئی تھی


سید فضل گیلانی

No comments:

Post a Comment