عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی
روانہ بھی نہیں تھا اور ہجرت ہو رہی تھی
بنایا جا رہا تھا کینوس پر زرد سورج
ابھارا جا رہا تھا نقش حیرت ہو رہی تھی
کہیں آتا نہیں تھا میں کہیں جاتا نہیں تھا
یقیں آتا نہیں تھا ایسی حالت ہو رہی تھی
مرا اس کے بنا تو جی کہیں لگتا نہیں تھا
اداسی لوٹ آئی تھی، مسرت ہو رہی تھی
چراغ ایک اک کر کے روشنی کرنے لگے تھے
مجھے ان سب چراغوں سے محبت ہو رہی تھی
نیا اک باغ تھا، اور اس کو کاٹا جا رہا تھا
پرندوں کو ابھی پیڑوں کی عادت ہو رہی تھی
بچھڑ جانے کا کچھ کچھ خوف بھی ہونے لگا تھا
مجھے اس کے رویے پر بھی حیرت ہو رہی تھی
نہیں تھی زندگانی بھی وہاں حسبِ تمنا
محبت بھی وہاں حسبِ ضرورت ہو رہی تھی
مکمل بد گمانی ہو گئی تھی اس کو سید
پلٹنے میں مجھے بھی اب سہولت ہو گئی تھی
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment