ہر بات، پر سوالِ محبت پہ خاک ڈال
غم کوئی بھی نہ پال محبت پہ خاک ڈال
جس کو نچائے بھوک بھی ہر جا گلی گلی
بھوکے ہیں سُر یہ تال، محبت پہ خاک ڈال
وہ جسم چھُو رہا تھا محبت کے نام پر
رشتہ بنا کے ڈھال، محبت پہ خاک ڈال
آوارگی کا زعم بہت دور لے گیا
بدلی ہے میں نے چال محبت پہ خاک ڈال
آتا تھا مجھ سے ملنے وہ ہر روز خواب میں
گزرے ہیں ماہ و سال، محبت پہ خاک ڈال
محدود ہیں فقط یہ ہوس تک محبتیں
سب نے بچھائے جال محبت پہ خاک ڈال
اب ہیر کا ہے دور نہ رانجھے کا یہ جہاں
مت دے مجھے مثال، محبت پہ خاک ڈال
کانٹوں پہ چل کے آؤں گی مجھ کو بلا کے دیکھ
اے یارِ با کمال، محبت پہ خاک ڈال
دیکھو کرن یہ عشق، محبت گناہ ہیں
کر کے ہُوا ملال، محبت پہ خاک ڈال
کرن ہاشمی
No comments:
Post a Comment