اجڑی اجڑی آنکھوں میں درد کے سمندر ہیں
خواب اپنے سارے ہی آنسووُں کے پیکر ہیں
سوگوار لہجے میں شام نے کہا مجھ سے
دوریاں مقدر تھیں، دوریاں مقدر ہیں
اک نئی کہانی میں اک نئی کہانی ہے
کچھ سکوں نہیں ملتا، خواہشوں کے چکر ہیں
سوچ کے سمندر میں حرف یوں چمکتے ہیں
رات کے اندھیرے میں جگنوؤں کے لشکر ہیں
کرچیاں بکھرنی تھیں، کرچیاں بکھرتی ہیں
پتھروں کی بستی میں، آئینہ مقدر ہیں
دشت کی ہواوُں نے کیا ہمیں ڈرانا ہے
ہم تو اپنے مسلک میں آج بھی بہتر ہیں
ثمینہ سید
No comments:
Post a Comment