Sunday, 15 November 2020

گردش زمانہ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

 گردشِ زمانہ کے، ساتھ ساتھ چلتے ہیں

حسرتوں کے دامن میں ولولے بھی پلتے ہیں

فکر کے چراغوں میں، خون دل کا جلتا ہے

زندگی کے ہنگامے تب غزل میں ڈھلتے ہیں

کیسے ان کو سمجھیں گے یہ خرد کے دیوانے

جو وفا کی راہوں میں گر کے پھر سنبھلتے ہیں

اس قدر زمانے سے ہم نے کھائے ہیں دھوکے

خار ہی نہیں اب تو گُل سے بچ کے چلتے ہیں

دیکھو ان کی نادانی، گرد تو ہے چہرے پر

خود نہیں بدلتے یہ، آئینہ بدلتے ہیں

اس قفس کی قسمت پر رشک ہے گلستاں کو

جس قفس کے گوشے میں، انقلاب پلتے ہیں


تبسم اعظمی

No comments:

Post a Comment