وہ جس سے مجھ کو بہت گلہ ہے مرا خدا ہے، یہ مسئلہ ہے
مگر شکایت کی سرحدوں سے وہ ماورأ ہے، یہ مسئلہ ہے
ترے تغافل سے میری جاں پر جو بن گئی ہے وہ اور شے ہے
ترے تغافل سے شاعری بھی جو منقطع ہے، یہ مسئلہ ہے
رقیب سے تو نباہ کرنا تھا عین ممکن، سو کر ہی لیتے
تُو جس کے حصے میں آ گیا ہے وہ تیسرا ہے، یہ مسئلہ ہے
اگرچہ اس کو بہت سہولت سے ہم میسر ہیں پھر بھی وہ شخص
ہمارے بارے میں اور لوگوں سے پوچھتا ہے، یہ مسئلہ ہے
سنا ہے شہر ستم کے لوگوں نے یہ کہا ہے ہمارے بارے
وہ آئینہ ہے قبول ہے پر وہ بولتا ہے، یہ مسئلہ ہے
دو ایک راتوں کی بات ہوتی تو عین ممکن تھا کاٹ لیتے
ہم ایسے لوگوں کا کل مقدر ہی رتجگا ہے، یہ مسئلہ ہے
خدا کا بندہ خدا کے بندوں سے پیار کرنے سے روکتا ہے
مگر وہ اس کو خدا کا مقصد بتا رہا ہے، یہ مسئلہ ہے
اکرام افضل
No comments:
Post a Comment