Wednesday, 11 November 2020

میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

 میں پتھر کا ہو جاتا ہوں


یاد ہے پہلے روز کہا تھا

بچھڑ گئے تو موج اڑانا

واپس میرے پاس نہ آنا

جب کوئی جا کر واپس آئے

روئے تڑپے یا پچھتائے

میں پھراس کو ملتا نہیں ہوں

ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں

گم جاتا ہوں، کھو جاتا ہوں

میں پتھر کا ہو جاتا ہوں


خلیل الرحمان قمر

No comments:

Post a Comment