Wednesday, 11 November 2020

تیرے پہلو میں ترے دل کے قرِیں رہنا ہے

 تیرے پہلو میں ترے دل کے قرِیں رہنا ہے

میری دنیا ہے یہیں مجھ کو یہیں رہنا ہے

کام جو عمرِ رواں کا ہے اسے کرنے دے

میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے

دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ

میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے

آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ، نہ سہی

تو مرا دیں ہے، مجھے صاحبِ دیں رہنا ہے

جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ

مجھ کو آنکھوں میں نہیں، دل میں مکیں رہنا ہے

پھول مہکیں گے یونہی، چاند یونہی چمکے گا

تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسِیں رہنا ہے

میں تری سلطنتِ حسن کا باشندہ ہوں

مجھ کو دنیا میں کہیں اور نہیں رہنا ہے


اشفاق حسین

No comments:

Post a Comment