بنتا تھا دن تمہارا کبھی دیکھ کر مجھے
تم وقت دے رہے ہو گھڑی دیکھ کر مجھے
میں اگلے دن الگ سا نہ لگنے لگوں تمہیں
کچھ فیصلہ نہ کرنا ابھی دیکھ کر مجھے
بادل کو دیکھ، مور کہیں ناچنے لگے
یوں زلفِ طرحدار کُھلی دیکھ کر مجھے
اس کی تو خیر بات ہی کیا رقص میں وہ تھا
اس کی گلی بھی جھُوم اٹھی دیکھ کر مجھے
اظہر نواز
No comments:
Post a Comment