وقت کی موت
میں وقت ہوں
اور میرے کرم میں ازل سے لکھ دیا گیا
کہ میں دَم لینے کو بھی نہیں رُکوں گا
بس سدا چلتا رہوں گا
میری کوئی سمت نہیں
مجھے جو چاہے، جہاں چاہے، ہانک کر لے جا سکتا ہے
لیکن مجھے ہانکنے والے کو میرے پیچھے چلنا ہو گا
جیسے سب ہانکنے والے چلتے ہیں
مجھ میں ایسی آسیبی طاقت ہے
کہ میں جوان چہروں کو جُھریوں سے بھر دیتا ہوں
کہ وہ پہچانے نہ جا سکیں
میں محبتوں کو نفرتوں میں بدلنے کی شکتی رکھتا ہوں
بس اسی شکتی نے میرا سارا کام خراب کیا
مجھے دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا
اور کچھ نخوت سے بھرے لوگ
میرے گلے میں رسی ڈال کر مجھے کھینچتے ہوئے
صدیوں پیچھے لے گئے
اور وہاں باندھ دیا
وہ تو اچھا ہوا کہ
کہ میں کھونٹے پر بندھا
اکیلا نہیں
مجھے اغوا کرنے والے لاکھوں میرے ساتھ ہی بیٹھے ہیں
اور اپنے گلے کی رسیوں کو تسبیح بنا کر
انگلیوں سے رول رہے ہیں
وہ کیا شمار کر رہے ہیں
مجھے معلوم نہیں
لیکن وہ میری ساعتیں نہیں
کچھ اور ہے
میں اب وہ وقت ہوں
جو اپنے اوپر پڑے وقت سے بھاگنے کی سوچ رہا ہوں
مجھے اپنے اندر پوشیدہ مزید شکتیوں کو بیدار کرنا ہو گا
اور موت کے منہ سے نکل کر
پھر اپنے سفر پر چلتے
اپنا کرم نبھانا ہو گا
ورنہ سمجھو
میں تو جیتے جی مر گیا
ہمراز احسن
No comments:
Post a Comment