اور بچھڑنے کا وقت آ پہنچا
موسموں نے خبر سنا دی ہے
پھول کھلنے کی رُت تمام ہوئی
زرد سورج کا چہرہ کہتا ہے
دن کے ڈھلنے کا وقت آ پہنچا
میرے ہاتھوں سے پھسلا ہاتھ اس کا
اور بچھڑنے کا وقت آ پہنچا
میری آنکھوں نے پڑھ لیا ہے نصیب
بخت ڈھلنے کا وقت آ پہنچا
اپنا رشتہ تھا موم کا رشتہ
سو پگھلنے کا وقت آ پہنچا
اپنے سب فیصلوں پہ جانِ حیات
ہاتھ ملنے کا وقت آ پہنچا
کنول حسین
No comments:
Post a Comment