Friday, 13 November 2020

اور بچھڑنے کا وقت آ پہنچا

 اور بچھڑنے کا وقت آ پہنچا


موسموں نے خبر سنا دی ہے

پھول کھلنے کی رُت تمام ہوئی

زرد سورج کا چہرہ کہتا ہے

دن کے ڈھلنے کا وقت آ پہنچا

میرے ہاتھوں سے پھسلا ہاتھ اس کا

اور بچھڑنے کا وقت آ پہنچا

میری آنکھوں نے پڑھ لیا ہے نصیب

بخت ڈھلنے کا وقت آ پہنچا

اپنا رشتہ تھا موم کا رشتہ

سو پگھلنے کا وقت آ پہنچا

اپنے سب فیصلوں پہ جانِ حیات

ہاتھ ملنے کا وقت آ پہنچا


کنول حسین

No comments:

Post a Comment