Friday, 20 November 2020

اب یہ ہو گا شاید اپنی آگ میں خود جل جائیں گے

 اب یہ ہو گا شاید اپنی آگ میں خود جل جائیں گے

تم سے دور بہت رہ کر بھی کیا پایا کیا پائیں گے

دکھ بھی سچے سکھ بھی سچے پھر بھی تیری چاہت میں

ہم نے کتنے دھوکے کھائے کتنے دھوکے کھائیں گے

کل کے دکھ بھی کون سے باقی آج کے دکھ بھی کے دن کے

جیسے دن پہلے کاٹے تھے یہ دن بھی کٹ جائیں گے

عقل پہ ہم کو ناز بہت تھا لیکن یہ کب سوچا تھا

عشق کے ہاتھوں یہ بھی ہو گا لوگ ہمیں سمجھائیں گے

آنکھوں سے اوجھل ہونا کیا دل سے اوجھل ہونا ہے

تجھ سے چھٹ کر بھی اہل غم کیا تجھ سے چھٹ جائیں گے

ہم سے آبلہ پا جب تنہا گھبرائیں گے صحرا میں

راستے سب تیرے ہی گھر کی جانب کو مڑ جائیں گے


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment