Monday, 16 November 2020

مرے سپرد کیا ہے نہ خود لیا ہے مجھے

 مرے سپرد کیا ہے، نہ خود لیا ہے مجھے

کسی نے حیرتِ امکاں میں رکھ دیا ہے مجھے

بچا نہیں میں ذرا بھی بدن کے برتن میں

ترے خیال نے بے ساختہ پیا ہے مجھے

تُو ایک شخص ہے لیکن تری محبت میں

دل و دماغ نے تقسیم کر دیا ہے مجھے

جدائی، رنج، اداسی، اندھیرا، خوف، گھٹن

ہر ایک یار نے دل کھول کر جیا ہے مجھے

تمہارے بعد نہیں اب کسی کی گنجائش

کہ تم نے اتنا محبت سے بھر دیا ہے مجھے


علی شیران

No comments:

Post a Comment