Saturday, 14 November 2020

ہمیں بھی پیار کرنا ہے

ہمیں بھی پیار کرنا ہے


 سنو

شہر مروت شہر جاناں کے گلی کوچو

ہمیں شہر مروت سے کہاں کچھ بار کرنا ہے

ازل سے بے ٹھکانہ ہیں

ابد تک بے گھری اپنا مقدر ہے

ہمارے بخت میں لکھا گیا ہے

عمر بھر چلنا

کسی بستی کسی دل میں ذرا سی دیر رکنا

پیار کے پیغام لکھنا پھول بونا

اور ہزاروں ان کہے جذبے

کئی سپنے سنجونا

غم چھپا کر ٹوٹ کر ہنسنا

ستاروں کے نہاں غم

رات بھر پھولوں کی پلکوں میں سمونا، درد رونا

پھر بہاروں کے سمے تک مسکرانا اور بکھر جانا

کسی بستی کی بانہوں میں گھڑی بھر

یا فقط اک رات رک جانا

صبح دم خامشی سے کوچ کر جانا

ازل سے طے شدہ رستے پہ چلنا

اور ابد کو چھو کے مر جانا

ہمیں شہر مروت سے کہاں کچھ بار کرنا ہے

فقط دل کے کہے کا مان رکھنا ہے

ذرا سی دیر، یا کچھ پل

خسارہ ہی سہی لیکن یہ کاروبار کرنا ہے

ہمیں بھی پیار کرنا ہے


کنول حسین

No comments:

Post a Comment