ہمیں بھی پیار کرنا ہے
سنو
شہر مروت شہر جاناں کے گلی کوچو
ہمیں شہر مروت سے کہاں کچھ بار کرنا ہے
ازل سے بے ٹھکانہ ہیں
ابد تک بے گھری اپنا مقدر ہے
ہمارے بخت میں لکھا گیا ہے
عمر بھر چلنا
کسی بستی کسی دل میں ذرا سی دیر رکنا
پیار کے پیغام لکھنا پھول بونا
اور ہزاروں ان کہے جذبے
کئی سپنے سنجونا
غم چھپا کر ٹوٹ کر ہنسنا
ستاروں کے نہاں غم
رات بھر پھولوں کی پلکوں میں سمونا، درد رونا
پھر بہاروں کے سمے تک مسکرانا اور بکھر جانا
کسی بستی کی بانہوں میں گھڑی بھر
یا فقط اک رات رک جانا
صبح دم خامشی سے کوچ کر جانا
ازل سے طے شدہ رستے پہ چلنا
اور ابد کو چھو کے مر جانا
ہمیں شہر مروت سے کہاں کچھ بار کرنا ہے
فقط دل کے کہے کا مان رکھنا ہے
ذرا سی دیر، یا کچھ پل
خسارہ ہی سہی لیکن یہ کاروبار کرنا ہے
ہمیں بھی پیار کرنا ہے
کنول حسین
No comments:
Post a Comment