تو نے ہر بات مطلب سے کی دوستا
اس کو کہتے نہیں دوستی دوستا
وصل تیرا ہوا راحتِ دو جہاں
ہجر تیرا ہے اندھی گلی دوستا
بات کرتا تجھے دیکھ کر یوں لگا
تیری نیت میں ہے کھلبلی دوستا
تیرے جانے سے پہلے تجھے رکھ لیا
تیری تصویر اک کھینچ لی دوستا
زندگی کی حقیقت جو ہم پر کھلی
ایک جھونکا لگا آدمی دوستا
میرے دل کے خرابے میں کہرام تھا
بین کرتی رہی خامشی دوستا
جس کا ایک ایک لمحہ صدی تھا مجھے
مجھ پہ گزری ہے وہ رات بھی دوستا
وقت یوں بھی کبھی ہم پہ ہو مہرباں
تیرے قدموں میں ہو حا ضری دوستا
حسرتوں کے لبوں پر ترا نام تھا
خواہشوں نے بھی رٹ باندھ لی دوستا
تیرے آنے سے جانے کا دکھ ہے برا
مجھ کو تھی راس تیری کمی دوستا
پاس میرے کوئی اس کا حل ہی نہیں
خود میں ہے موت یہ آگہی دوستا
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment