اتنا اُکتا گئے شکار سے ہم
اب نکلتے نہیں کچھار سے ہم
جب سُنی شرط باریابی کی
آ گئے اُٹھ کے اس قطار سے ہم
ابھی جھاڑی تھی پچھلی دُھول کہ پھر
اَٹ گئے ہیں نئے غُبار سے ہم
جس طرف جا رہے ہیں لوگ سبھی
آ رہے ہیں اُسی دیار سے ہم
موسموں پر نہ تھا جُنوں موقوف
یونہی شاکی رہے بہار سے ہم
پھر بھی قحط الرجال ہے ہر سُو
گرچہ باہر ہیں اب شمار سے ہم
تبصرہ اک ولی کے شہر پہ تھا
ڈر گئے صاحبِ مزار سے ہم
اسد رحمان
No comments:
Post a Comment