Saturday, 8 May 2021

چور چوہے اور بچے

 چور چوہے اور بچے


گُلِ عباس، گلاب، چنبیلی

گیندا، چمپا، بیلا، جوہی

کل تک ان سے لدے ہوئے تھے

آج اداس کھڑے ہیں پودے

چُوہے پھُول کتر جاتے ہیں

بنجر کو زرخیز بنا کر

کھیتوں میں فصلیں لہرا کر

جو کھلیانوں کو بھرتا ہے

وہ کسان بھوکوں مرتا ہے

غلّہ تو چُوہے کھاتے ہیں

بچو ایسا کب تک ہو گا؟

تم چاہو گے جب تک ہو گا

روکو اس سینہ زوری کو

محنت کش کو بھی کھانا دو

چُوہے تم سے گھبراتے ہیں


مظفر حنفی

No comments:

Post a Comment