Monday, 16 August 2021

اس قدر صبر اور رضا والے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 اس قدر صبر اور رضا والے

ہائے مہمان کربلا والے

جان انکی نظر میں کچھ بھی نہ تھی

یہ دکھاتے رہے وفا والے

پیاس ان کو نہ کر سکی مغلوب

خوف ناپید تھے قضا والے

لگ گئی آگ دھوپ کو جیسے

پھر بھی محفوظ تھے ردا والے

اک طرف تھے ہزار ہا ابلیس

اک طرف چند مصطفیٰﷺ والے

خون دے کے بچا رہے تھے دین

کر رہے تھے عطا، عطا والے

آئے گا ان پہ امتحاں گستاخ

جو بھی کہلائیں گے خدا والے


گستاخ بخاری

No comments:

Post a Comment