Monday, 16 August 2021

زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوئی ہیں

 زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوئی ہیں

کہیں سے ابرِ رحمت بار دیکھو

بدن زخموں سے گلشن بن چکا تھا

کھلا نہ یوں کہیں گلزار دیکھو

جتنے بھی کارواں میں تھے حسنِ عمل کے ساتھ

شائق شہادتوں کے قرینے کو لے چلے

میں تیرے پاؤں کے نیچے ثواب رکھ دیتا

میرا حوالہ تیری طرح کو بہ کو ہوتا


گستاخ بخاری

No comments:

Post a Comment