تمہاری یاد میں پھر آنکھ بھر آئی تو کیا ہو گا
خیالوں میں تِری تصویر لہرائی تو کیا ہو گا
اتارا ہے جنوں اس کی محبت کا مگر پھر سے
’خرد نے عشق کی پوشاک پہنائی تو کیا ہو گا‘
مجھے تسلیم؛ نہ تیراک ہوں، نہ تیرنا آئے
تہِ دریا جو پھر بھی ہو شناسائی تو کیا ہو گا
ہمیں ہے خوب اندازہ کہ ذرۂ زمیں ہم ہیں
ہاں دیکھیں گے ملی تم کو جو اونچائی تو کیا ہو گا
نہیں میں معترض ہرگز تمہاری اشک ریزی پر
چھنی جو آپ کی اس سے ہی بینائی تو کیا ہو گا
خیال و عکس بن کر جو پسِ آئینہ رہتی ہے
وہی تصویر شیشے سے نکل آئی تو کیا ہو گا
بہت نامی گرامی لوگ ہیں تشریف فرما یاں
ملی گمنام شاعر کو پذیرائی تو کیا ہو گا
سوائے ضبط کے مفتی نہیں چارہ دگر کوئی
نہ ہو آہوں کی میرے کوئی شنوائی تو کیا ہو گا
پرستارانِ غفلت کو بتا دو جا کے اے مفتی
سہانی نیند بھی روٹھی، نہیں آئی تو کیا ہو گا
ایاز مفتی
No comments:
Post a Comment