Tuesday, 5 October 2021

یوں بھی اب کوئی رشتہ نہیں رہ گیا آنکھ کا خواب سے

 یوں بھی اب کوئی رشتہ نہیں رہ گیا آنکھ کا خواب سے

پھر تو شکوہ ہی بےکار و بے سود ہے اپنے احباب سے

پوچھنے چل پڑا ہے مِرا دل محبت کے غرقاب سے

کون تم کو بلاتا رہا تھا ہلاکت کے گرداب سے؟

پھر بھی قرطاسِ دل سے تِری یاد کے نقش نا مٹ سکے

میں نے آنکھوں کو دھویا بھی تھا گریہ زاری کے تیزاب سے

وہ بھی کیا لوگ تھے جو محبت کی تفسیرِ کل تھے بنے

اور واقف تھے عشقِ مجازی کی رسموں سے آداب سے

تُو نے اچھا کیا جو مِرے سامنے سب گرہیں کھول دیں

میں نے پہلی دفعہ سیر ہو کے پیا ساغرِ ناب سے

عشق آسیب نے شہر میں آ کے گھر کر لیا اور پھر

ایک دن لوگ محروم ہونے لگے اپنے اعصاب سے

جانے کیسا انوکھا تعلق خدا نے بنایا ہے یہ

سب تمنائیں میں نے تجھے سونپ دیں ایک ایجاب سے


بشریٰ شاہ

بشریٰ شہزادی

No comments:

Post a Comment