Saturday, 16 October 2021

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

 اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

بلا لے پاس تو ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے

تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہو گی

بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے

کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مفہوم آنکھیں اب

بھگوتی ہیں تِرا دامن، یہ بارش نے کہا مجھ سے

سمندر کے کناروں پر چلا تھا ہم قدم لیکن

بنا وہ شخص کیوں دشمن یہ بارش نے کہا مجھ سے

ہواؤں نے تِرا آنچل اڑا ڈالا تِرے سر سے

بڑی مستی میں ہے ساون یہ بارش نے کہا مجھ سے

تِرے ہونٹوں میں سجتی تھی تِرے ساجن کے ہاتھوں سے

کبھی اِملی، کبھی جامن، یہ بارش نے کہا مجھ سے

کہیں پردیس میں ہو گا، دعا! ساجن کو بلوا لے

نہ یوں بے کار کر جیون یہ بارش نے کہا مجھ سے


دعا علی

No comments:

Post a Comment