اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے
بلا لے پاس تو ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے
تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہو گی
بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے
کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مفہوم آنکھیں اب
بھگوتی ہیں تِرا دامن، یہ بارش نے کہا مجھ سے
سمندر کے کناروں پر چلا تھا ہم قدم لیکن
بنا وہ شخص کیوں دشمن یہ بارش نے کہا مجھ سے
ہواؤں نے تِرا آنچل اڑا ڈالا تِرے سر سے
بڑی مستی میں ہے ساون یہ بارش نے کہا مجھ سے
تِرے ہونٹوں میں سجتی تھی تِرے ساجن کے ہاتھوں سے
کبھی اِملی، کبھی جامن، یہ بارش نے کہا مجھ سے
کہیں پردیس میں ہو گا، دعا! ساجن کو بلوا لے
نہ یوں بے کار کر جیون یہ بارش نے کہا مجھ سے
دعا علی
No comments:
Post a Comment