ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
آپسی رِیت نبھاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
سینکڑوں واہمے بُننے سے کہیں بہتر ہے
ایک تاویل اٹھاتے ہیں، بچھڑ جاتے ہیں
اس صحیفے کے ہر اک پنے پہ بوسیدگی ہے
اس رفاقت کو جلاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
ظرف کعبے پہ گراں بار ہے احساسِ زبوں
آ کہ اس بُت کو بھی ڈھاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
موت جنگل ہے وہاں پار حسیں پریوں کا
جو وہاں بھُول کے جاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
بانجھ رشتوں کو کوئی تازہ توقع نہ ہو جب
گھر میں دیوار اُٹھاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
زیست کے باب میں مخفی ہے کہیں تو احمد
لوگ جس بھید کو پاتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
احمد شہباز
No comments:
Post a Comment