Monday, 18 October 2021

واہمے شام کی اخبار سے لگ جاتے ہیں

 واہمے شام کی اخبار سے لگ جاتے ہیں

تندرست آدمی بیمار سے لگ جاتے ہیں

اس کی یادوں کی اگر گاڑیاں میں پارک کروں

دل کے گیراج میں انبار سے لگ جاتے ہیں

جن کو گھر والی نے لسی کے لیے بھیجا تھا

وہ بھی مے خانے کی دیوار سے لگ جاتے ہیں

رتجگے، خرچے، رقیبانہ جرح، فون پہ کال

یہ وہ آزار ہیں جو پیار سے لگ جاتے ہیں

ضبطِ تولید پہ آتا ہے اسی وقت یقیں

گھر میں جب لشکرِ جرار سے لگ جاتے ہیں

گھر سے باہر وہ نکلتی ہے فقط پیر کے دن

ہم بھی اک لائن میں اتوار سے لگ جاتے ہیں

منہ نہ صابن سے اگر دھو کے وہ باہر نکلے

داغ ان آنکھوں پہ دیدار سے لگ جاتے ہیں

بعض اوقات تِری یاد کے چند آنے بھی

ڈالر و درہم و دینار سے لگ جاتے ہیں

سیٹھ ایسے بھی مِرے شہر میں رہتے ہیں عزیز

مانگنے قرض جو نادار سے لگ جاتے ہیں


عزیز فیصل

No comments:

Post a Comment