واہمے شام کی اخبار سے لگ جاتے ہیں
تندرست آدمی بیمار سے لگ جاتے ہیں
اس کی یادوں کی اگر گاڑیاں میں پارک کروں
دل کے گیراج میں انبار سے لگ جاتے ہیں
جن کو گھر والی نے لسی کے لیے بھیجا تھا
وہ بھی مے خانے کی دیوار سے لگ جاتے ہیں
رتجگے، خرچے، رقیبانہ جرح، فون پہ کال
یہ وہ آزار ہیں جو پیار سے لگ جاتے ہیں
ضبطِ تولید پہ آتا ہے اسی وقت یقیں
گھر میں جب لشکرِ جرار سے لگ جاتے ہیں
گھر سے باہر وہ نکلتی ہے فقط پیر کے دن
ہم بھی اک لائن میں اتوار سے لگ جاتے ہیں
منہ نہ صابن سے اگر دھو کے وہ باہر نکلے
داغ ان آنکھوں پہ دیدار سے لگ جاتے ہیں
بعض اوقات تِری یاد کے چند آنے بھی
ڈالر و درہم و دینار سے لگ جاتے ہیں
سیٹھ ایسے بھی مِرے شہر میں رہتے ہیں عزیز
مانگنے قرض جو نادار سے لگ جاتے ہیں
عزیز فیصل
No comments:
Post a Comment