Monday, 18 October 2021

اب کوئی کام نہیں اور ہمارے لائق

 اب کوئی کام نہیں اور ہمارے لائق

بس یہی غم ہے فقط غم بھی گزارے لائق

اپنے معیار سے جوں گرتے چلے جاتے ہیں

یوں بھی ممکن ہے کہ ہو جائیں تمہارے لائق

شہر والوں کو ذہانت سے سروکار نہ تھا

ورنہ بچے تھے مضافات کے سارے لائق

اس کی آنکھوں میں قدامت کو ذرا اور پرکھ

ایک سیلابِ تغیر ہے اشارے لائق

سوچ نقدی ہے عوض جس کے ملے سوچ نئی

غیر ممکن ہے کہ سوچیں گے ادھارے لائق

موج در موج پنپتی ہیں یہ لہریں ہم سے

کس طرح لوگ سمجھتے ہیں کنارے لائق

وہ چراغوں سے کسی طور نہیں ہو سکتا

ہم نے جو کام نکالا ہے ستارے لائق

اس کو ہر سانس کی قیمت کا پتہ ہوتا ہے

زندگی جس نے گزاری ہو گزارے لائق

بھول جانا تو کوئی کام نہیں ہے اے دوست

اور کچھ کام ہو خدمت ہو ہمارے لائق


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment