اب کوئی کام نہیں اور ہمارے لائق
بس یہی غم ہے فقط غم بھی گزارے لائق
اپنے معیار سے جوں گرتے چلے جاتے ہیں
یوں بھی ممکن ہے کہ ہو جائیں تمہارے لائق
شہر والوں کو ذہانت سے سروکار نہ تھا
ورنہ بچے تھے مضافات کے سارے لائق
اس کی آنکھوں میں قدامت کو ذرا اور پرکھ
ایک سیلابِ تغیر ہے اشارے لائق
سوچ نقدی ہے عوض جس کے ملے سوچ نئی
غیر ممکن ہے کہ سوچیں گے ادھارے لائق
موج در موج پنپتی ہیں یہ لہریں ہم سے
کس طرح لوگ سمجھتے ہیں کنارے لائق
وہ چراغوں سے کسی طور نہیں ہو سکتا
ہم نے جو کام نکالا ہے ستارے لائق
اس کو ہر سانس کی قیمت کا پتہ ہوتا ہے
زندگی جس نے گزاری ہو گزارے لائق
بھول جانا تو کوئی کام نہیں ہے اے دوست
اور کچھ کام ہو خدمت ہو ہمارے لائق
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment