Friday, 15 October 2021

پہلے بھی کون ساتھ تھا

 پہلے بھی کون ساتھ تھا

اب جو کوئی نہیں رہا

وقت ستم ظریف تھا

وقت کا پھر بھی کیا گِلہ

کیسی عجیب شام تھی

کیسا عجیب واقعہ

کہنے کو کہہ رہے ہیں لوگ

میں نے تجھے بھلا دیا

قصہ یہ ہے کہ میں تجھے

دل سے کہاں بھلا سکا

ترکِ تعلقات کا

باقی ہے ایک مرحلہ

باقی ہے اب بھی ذہن میں

خوابوں کا ایک سلسلہ

عشق سے نسبتوں میں ہے

میرے سفر کا راستہ

شام ہوئی تو چل پڑا

ہجر زدوں کا قافلہ

کوہکنی سے ربط ہے

نام و نسب کا ذکر کیا


علی وجدان

No comments:

Post a Comment