Tuesday, 5 October 2021

گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

 گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

اب بیابان ہی گھر لگتا ہے

پاؤں رکھتا ہوں تو دھنستی ہے زمیں

سر اٹھاتا ہوں تو سر لگتا ہے

قتل و غارت ہے گلی کوچوں میں

شہر دہشت کا نگر لگتا ہے

ڈگمگاتی ہے دھماکوں سے زمیں

آسماں زیر و زبر لگتا ہے

زندگی یوں تو گزر جائے گی

کتنا مشکل یہ سفر لگتا ہے

غیر تو غیر ہمیں آج کے دن

اپنے ہم سائے سے ڈر لگتا ہے


بی ایس جین جوہر

No comments:

Post a Comment