درد آیا نہ جگر یاد آیا
جب کوئی رشکِ قمر یاد آیا
جِس کے دم سے تھا اُجالا گھر میں
وہ دِیا شام و سحر یاد آیا
آتشِ عشق نے وہ کام کِیا
برق آئی نہ شرر یاد آیا
عشق میں جو بھی سرِ دار گیا
اس کو دستار نہ سر یاد آیا
گھر سے نکلے تو وہ گھر بھول گئے
کوئی دیوار نہ در یاد آیا
کر چکا جب وہ مِرے ہاتھ قلم
تب اسے میرا ہُنر یاد آیا
ہو گیا ختم جہاں میرا سفر
پِھر مجھے رختِ سفر یاد آیا
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment