Tuesday, 5 October 2021

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

 پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا

اس ماہ رو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی

جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا

دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر

کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا

ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے

وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا


جارج پیش شور

No comments:

Post a Comment