پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما
آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا
اس ماہ رو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی
جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا
دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر
کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا
ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے
وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا
جارج پیش شور
No comments:
Post a Comment