Tuesday, 5 October 2021

اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے

 اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے

خیال و خواب پر میرے ہزار پہرے تھے

وہ خوشگماں تھے تو جو خواب تھے سنہرے تھے

وہ بد گماں تھے اندھیرے تھے اور گہرے تھے

جو آج ہوتی کوئی بات بات بن جاتی

اسے سنانے کے امکان بھی سنہرے تھے

سماعتوں نے کیا رقص مست ہو ہو کر

صدا میں اس کی حسیں بین جیسے لہرے تھے

ہمارے درد کی یہ داستان سنتا کون

یہاں تو جو بھی تھے منصف وہ سارے بہرے تھے

چلے گئے وہ شرر بو کے اس قبیلے میں

تو قتل ہونے کو شاہین ہم بھی ٹھہرے تھے


سلمیٰ شاہین

No comments:

Post a Comment