Tuesday, 5 October 2021

دھوپ چھانو کے درمیاں یہ زندگی

 دھوپ چھانو کے درمیاں


یہ زندگی

گلوں کی ایک سیج ہے

نہ خار و خس کا ڈھیر ہے

بس ایک امتحان کا

لطیف سا سوال ہے

سوال کا جواب تو محال ہے

بس اتنا ہی سمجھ لیں ہم

کہ زیست دھوپ چھانو ہے

کہیں پہ یہ نشیب تو کہیں پہ یہ فراز ہے

جہاں بٹھائے یہ ہمیں

وہیں پہ ہم بساط ذات ڈال کر

کرن کرن سے

کچھ نہ کچھ حرارتیں نچوڑ لیں

تمازتیں سمیٹ لیں کچھ اس طرح

کہ چھانو کی عنایتوں بشارتوں

کا اک یقیں بھی ساتھ ہو


ارشد کمال

No comments:

Post a Comment