دستگیری کرنے والا تو دعا لے جائے گا
ہاتھ پھیلانا تِرا تیری حیا لے جائے گا
غیر کا بازو پکڑ کر مت کھڑے ہونا کبھی
”وہ سہارا دے کے تیرا حوصلہ لے جائے گا“
وقت کا دریا مسلسل بہہ رہا ہے تیز رو
سب کو اپنی موج میں اک دن بہا لے جائے گا
اپنے سینے سے لگا کر دیکھ مفلس کو کبھی
چند لمحے میں تِری ساری انا لے جائے گا
وقت کے تکیے پہ کاڑھا پھول تیرے ہجر کا
آنکھ کھلتے ہی مِرے سپنے چرا لے جائے گا
چاہتے ہو خلد تو پھر نیکیاں جی بھر کرو
خلد میں بس نیکیوں کا سلسلہ لے جائے گا
عشق کو سمجھا ہے تُو نے دل لگی ابنِ چمن
زندگی پرلطف جینے کا مزہ لے جائے گا
اشہد بلال چمن
No comments:
Post a Comment