Tuesday, 5 October 2021

زمیں بھی لہو تھی لہو آسماں تھا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 زمیں بھی لہو تھی، لہو آسماں تھا

کہ خوں میں نہایا ہوا اک جواں تھا

یزیدوں کے نرغے میں اک خانداں تھا

کہ پیاسوں کا حاصل، وہ پانی کہاں تھا

عدو کی صفوں میں بھی ہلچل بہت تھی

مگر حر مطمئن نہیں تھا، جہاں تھا

بہتر کی جانب وہ آیا تھا، جونہی

تو ماتھے پہ اس کے ہدایت نشاں تھا

ہوا جیسے ہی تیرِ حرمل سے زخمی

شہید ہو گیا آخرش، ناتواں تھا

شقی مقتدر وادئ شام میں تھے

یزیدِ لعیں بن گیا، حکمراں تھا

عجب رقصِ وحشت کا عالم تھا ہر سو

جو جلتے تھے خیمے تو شور و فغاں تھا

انی پہ جو نیزے کی قرآں سنائے

وہ ابنِ علیؑ دین کا پاسباں تھا

جو کربل میں ابنِ علیؑ نے دیا تھا

مدلل تھا خطبہ حسیں وہ بیاں تھا

کہانی لہو سے لکھی کربلا میں

محمدؐ کا ہی مفتی وہ خانداں تھا


ایاز مفتی

No comments:

Post a Comment