Friday, 15 October 2021

مٹا کر نفرتوں کو دل محبت سے سجاتے ہیں

چلو اب ساتھ مِل کر ہم سبھی ہولی مناتے ہیں

مِٹا کر نفرتوں کو دل محبت سے سجاتے ہیں

گلابی، لال، پیلے رنگ دُھل جاتے ہیں پانی سے

کہ چھوڑو رنگ کی باتیں، چلو ہم دل لگاتے ہیں

جلاتے آئے ہیں اک دوسرے کا گھر زمانے سے

چلو اب ساتھ مل کر پیار کی بستی بساتے ہیں

اگر منظور ہو تم کو، مٹا دوں خود کو الفت میں

یہ دل کیا چیز ہے تم پر صنم ہم جاں لٹاتے ہیں

ملا کر ہاتھ تم یوں مسکرانا چھوڑ دو صاحب

اگر دل میں محبت ہے تو دل سے دل ملاتے ہیں

مِرے دل میں وہ رہتے ہیں مری ہر سانس ہے ان کی

نہ جانے کس لیے اکثر وہی مجھ کو سناتے ہیں

ملا کرتے ہیں اکثر راستے میں اجنبی بن کر

میں ان کو آزماتا ہوں، وہ مجھ کو آزماتے ہیں

دیا جب دل صنم تم کو تو کیسی جنگ الفت میں

مبارک جیت ہو تم کو چلو ہم ہار جاتے ہیں

بھلا ہم کیا کہیں بسمل کرشمے ان کی الفت کے

جنھیں ہم بھولنا چاہیں وہی کیوں یاد آتے ہیں


پریم ناتھ بسمل

No comments:

Post a Comment